اُڈپی 12 اگست (ایس او نیوز) اُڈپی ضلع میں قومی شاہراہوں پر پیش آئے ہوئے حادثات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس میں جان گنوانے والے افراد کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے ۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2023 میں 1000 سے بھی زائد حادثات پیش آئے جس کے نتیجے میں 222 افراد کی جانیں گئیں ۔ اس پس منظر میں محکمہ پولیس نے 21 ایسے بلیک اسپاٹس کی نشان دہی کی ہے جہاں اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کو اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے ان مقامات پر حادثات کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
سڑکوں اور جنکشنوں کے غیر سائنسی ڈیزائن کے ساتھ ساتھ موٹرسائیکل سواروں کی تیز رفتاری کو حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بنیادی وجوہات سمجھا جا رہا ہے ۔ اُڈپی ٹریفک پولیس اسٹیشن کی حدود میں چار بلیک اسپاٹس یعنی حادثات کے زیادہ امکانات والے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں تین بیندور پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتے ہیں ۔
ضلع انتظامیہ نے این ایچ اے آئی کو ان مقامات پر انتباہ والے نشانات لگانے، زیبرا کراسنگ بنانے اور حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ان بلیک اسپاٹس پر ٹریفک پولیس تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
سال 2023 کے دوران ضلع اُڈپی میں قومی شاہراہوں پر 1,284 حادثے ہوئے ۔ ان حادثات میں 222 اموات کے علاوہ، 1,381 افراد کو معمولی سے لے کر بڑی گہری چوٹیں آئیں ۔ محکمہ پولیس کے مطابق ان حادثات کی 90 فیصد کی وجہ تیز رفتاری ہے ۔
تین سال پہلے منی پال اکیڈیمی آف ہائر ایجوکیشن اور منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلباء اور ماہرین نے این ایچ اے آِئی اور ضلع پولیس کے ساتھ مل کر ہائی وے بلیک اسپاٹس کا مطالعہ کیا ۔ ان کے نتائج نے سڑکوں کے غیر سائنسی ڈیزائن کو حادثات میں ایک اہم عنصر کے طور پر اجاگر کیا ۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سڑک کے ڈیوائیڈرز اور یو ٹرن اکثر قریبی شادی ہالز، پیٹرول بنکس، ہسپتالوں اور شاپنگ مالز کے مالکان کے دباؤ کی وجہ سے لگائے جاتے ہیں ۔ اصولی طور پر کسی شاہراہ پر یو ٹرن سے پہلے تین لین فراہم کی جانی چاہئیں، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا ۔ خاص طور پر جہاں مقامی باشندوں کے دباو یا رسوخ کی وجہ یو ٹرن کی جگہ فراہم کی گئی ہو۔
اس کے علاوہ ایم آئی ٹی منی پال میں سول انجینئرنگ کے اسسٹنٹ لیکچرر راگھویندرا ہولّا کے مطابق سڑک کے غلط سمت سے ڈرائیونگ کرنا بھی حادثات کی ایک اور بڑی وجہ ہوتی ہے ۔
اُڈپی کی ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر کے ودیا کماری نے کہا:"شاہراہوں پر حادثات کو روکنے کے لیے محکمہ پولیس اور این ایچ اے آئی کو پہلے ہی مناسب ہدایات دی گئی ہیں ۔ ہائی ویز پر ٹراما کیئر سینٹرز کے ساتھ ایمبولینس میپنگ کو لاگو کیا جانا چاہیے اور ہائی وے انجینئروں کو جائزے کے لئے ہر ماہ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔"